چشتیاں: مقامی انتظامیہ کی غفلت و لاپرواہی اورعدم توجہی کی بنا پر شہر کےتین مرکزی بازاروں میں 3 ماہ سے کام ادھورا چھوڑ کر سینکڑوں تاجروں اور شہریوں کو سخت عذاب سے دوچار کر رکھاہے۔
چشتیاں (رانا شاہد عظیم سے): ضلع بہاولنگر وتحصیل چشتیاں انتظامیہ کی غفلت لاپرواہی اورعدم توجہی کی بنا پر چشتیاں کےتین مرکزی بازاروں میں ٹف ٹائلز لگانے کیلئے مٹی کی بھرتی ڈال کر 3 ماہ سے کام ادھورا چھوڑ کر سینکڑوں ٹیکس گزار تاجروں اور شہریوں کو سخت عذاب سے دوچار کر رکھا ھے تین بازاروں میں چلنے والی ٹریفک کی بدولت اڑنے والی مٹی کپڑا ، کراکری ، شوز ، جنرل سٹور ، جیولرز شاپس ودیگر دکانوں کے سامان خراب کرکے مالی نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ تاجروں اور شہریوں کو سانس کی تکالیف میں مبتلا کررہی ہے۔
چشتیاں کے سیاسی سماجی و کاروباری حلقوں نے وزیر اعلی پنجاب محترمہ مریم نواز شریف اور کمشنر بہاولپور ڈویژن سے اپنے مطالبہ میں کہا ہے کہ چشتیاں کے صرافہ بازار،ایم سی پلازہ بازار،بانو والنسا بازارمیں ٹھیکیدار نے 3 ماہ قبل پرانی ٹف ٹائلز کو اکھاڑ کر وہاں مٹی کی بھرتی ڈال کر کام بند کردیا جس سے گاہکوں کی آمدورفت میں رکاوٹ پیدا ہو جانے سے تاجروں کو سخت مالی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
ٹھیکیدار نے مروجہ قوانین کے مطابق 3 ماہ سے روزانہ کی بنیاد پر بازاروں میں چھڑکاؤ بھی نہی کیا جس کی بدولت بازاروں اٹھنے والی مٹی گردوغبار تاجروں ، شہریوں، خصوصا عورتوں بچوں اور بزرگوں کیلئے سخت مسائل کا باعث ہے، انہوں نے اپنے مطالبہ میں کہا ہے کہ متذکرہ بازاروں میں ٹف ٹائلز لگانے کے منصوبہ کو جلد مکمل کرنے کے احکامات جاری کئے جائیں تاکہ تاجر پرسکون ماحول میں کاروبار کرسکیں۔