چشتیاں میں تجاوزات آپریشن کے نام پر غریب اور کمزور شہریوں کے خلاف فوری کارروائی اور بااثر سیاسی افرادمحفوظ

محبوب کالونی میں پانچ روز سے جاری آپریشن پر شہریوں کے تحفظات؛ میونسپل کمیٹی کے انکروچمنٹ انچارج کی کارکردگی اور مبینہ بدعنوانی بھی زیرِ سوال، اعلیٰ حکام سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ

چشتیاں: چشتیاں کی محبوب کالونی میں تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن پر شہریوں نے مبینہ امتیازی سلوک اور دوہرے معیار کے الزامات عائد کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ قانون کا اطلاق صرف غریب اور کمزور شہریوں تک محدود ہے، جبکہ سیاسی تعلقات اور اثرورسوخ رکھنے والے افراد کومبینہ طور پر رعایت دی جا رہی ہے۔

شہریوں کے مطابق محبوب کالونی کی گلی میں تجاوزات کے خلاف کارروائی شروع ہوئے پانچ روز گزر چکے ہیں۔ اس دوران عام اور غریب شہریوں کی مبینہ تجاوزات مسمار کر دی گئیں، تاہم بعض بااثر افراد کی تجاوزات تاحال برقرار ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر تجاوزات غیر قانونی ہیں تو پھر کارروائی میں یہ فرق کیوں؟ قانون کی عملداری مالی حیثیت اور سیاسی تعلقات کی بنیاد پر طے نہیں ہونی چاہیے۔

شہریوں نے سوال کیا ہے کہ کیا انتظامیہ کے نزدیک قانون سب کے لیے برابر ہے یا اس کا نفاذ صرف ان افراد تک محدود ہے جو اپنے حق میں آواز اٹھانے یا اثرورسوخ استعمال کرنے کی پوزیشن میں نہیں؟ ان کا کہنا ہے کہ تجاوزات کے خاتمے کے نام پر کسی بھی قسم کی امتیازی کارروائی انتظامیہ کی ساکھ اور قانون کی یکساں عملداری پر سوالیہ نشان بن سکتی ہے۔

دوسری جانب میونسپل کمیٹی چشتیاں کے انکروچمنٹ انچارج کی کارکردگی بھی شہریوں کی تنقید کی زد میں ہے۔ شہریوں نے مذکورہ اہلکار کے دورِ ملازمت میں مبینہ بدعنوانی اور تجاوزات سے متعلق معاملات کی غیر جانب دارانہ جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ آپریشن میں مبینہ طور پر اختیار کیے گئے طریقۂ کار اور انکروچمنٹ انچارج کے کردار کی بھی شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔

شہریوں نے ڈپٹی کمشنر بہاولنگر اور اسسٹنٹ کمشنر و ایڈمنسٹریٹر میونسپل کمیٹی چشتیاں غلام مصطفیٰ جٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ محبوب کالونی میں تجاوزات آپریشن کے دوران مبینہ امتیازی سلوک کا فوری نوٹس لیا جائے، انکروچمنٹ انچارج کے خلاف موصول ہونے والی شکایات کی باقاعدہ انکوائری کرائی جائے اور الزامات ثابت ہونے کی صورت میں محکمانہ و قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ تجاوزات کے خاتمے کے لیے کارروائی بلاامتیاز، شفاف اور قانون کے مطابق ہونی چاہیے۔ انتظامیہ کو واضح کرنا ہوگا کہ قانون کی گرفت صرف غریب شہریوں تک محدود نہیں، بلکہ سیاسی اثرورسوخ اور طاقت رکھنے والے افراد بھی اس کے تابع ہیں۔

متعلقہ خبریں