چشتیاں:سیل شدہ کمرشل پلازے پر تعمیراتی کام جاری، سوا کروڑ روپے کے واجبات کی عدم ادائیگی کی تحقیقات کا مطالبہ
مبینہ طور پہ اس سارے غیر قانونی عمل کو چند سرکاری اہلکاروں اور مقامی با اثر افراد کی پشت پناہی حاصل ہے۔
چشتیاں: چشتیاں میں 18 مرلہ رقبے پر زیر تعمیر کمرشل پلازے کو اسسٹنٹ کمشنر کے حکم پر میونسپل کمیٹی نے سیل کیا گیا تھا، تاہم الزام ہے کہ کچھ سرکاری اہلکاروں اور مقامی با اثر افراد کی پشت پناہی سے سیل کے باوجود اتوار کو چھت کی تعمیر کا کام شروع کردیا گیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق پلازے کے کمرشل واجبات اور فیسوں کی مد میں تقريباً سوا کروڑ روپے کی رقم بھی مبینہ طور پر واجب الادا ہے، جس کی تصدیق سرکاری ریکارڈ سے ہونا ضروری ہے۔اس معاملے میں شازیہ پروین زوجہ عبیداللہ اور نصرت بانو زوجہ ہدایت اللہ کے نام بھی سامنے آئے ہیں، جبکہ دستیاب ایف آئی آر میں درج الزامات کے تحت قانونی کارروائی کی گئی ہے۔
شہری حلقوں نے ڈپٹی کمشنر بہاولنگر اور اسسٹنٹ کمشنر چشتیاں سے مطالبہ کیا ہے کہ پلازے کی تعمیر، سیل کے احکامات، واجبات کی عدم ادائیگی ، بلڈنگ انسپکٹر اور متعلقہ عملے کی کارکردگی کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور خلاف ورزی ثابت ہونے پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔