نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کا قیام قومی خوشحالی،عوامی ترقی اور متوازن وسائل کی تقسیم کے لیے ناگزیر ہے: چودھری طاہر بشیر چیمہ

چشتیاں (عامر سہیل سے): رہنما جنوبی پنجاب سابق ممبر قومی اسمبلی چودھری طاہر بشیر چیمہ نے کہا ہے کہ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کا قیام قومی خوشحالی عوامی ترقی اور متوازن وسائل کی تقسیم کے لیے ناگزیر ہےعوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، انتظامی امور میں بہتری، پسماندہ علاقوں کی محرومیوں کا خاتمہ اور یکساں ترقی کے مواقع پیدا کرنے کے لیے نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام پر سنجیدہ قومی مکالمے کی ضرورت ہے۔

اس امر کا اظہار انہوں نے لیفٹیننٹ کرنل (ر) محمد مکرم خان،اسد علی خان ایڈووکیٹ سابق نائب صدر بہاولپور ہائیکورٹ بارسابق چیئرمین و سابق ناظم بخشن خان کی رہائش گاہ افغان ہاؤس پر انکے اعزاز میں دئیے گئے ڈنر کےموقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقع پر سابق چیئرمین و سابق ناظم صاحبزادہ میاں نجم الدین مہاوری، حافظ خالد محمود پڑھیار اور امجد الطاف بھی موجود تھے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کا معاملہ ایک مرتبہ پھر قومی سطح پر اہمیت اختیار کر رہا ہے۔بڑھتی ہوئی آبادی، وسیع رقبے، انتظامی مشکلات اور مختلف علاقوں میں ترقی کے غیر مساوی مواقع کے باعث یہ بحث اہمیت اختیار کر چکی ہے کہ موجودہ انتظامی ڈھانچے کو کس طرح زیادہ مؤثر بنایا جائے تاکہ عام شہری کو تعلیم، صحت، روزگار، انصاف اور دیگر بنیادی سہولیات اس کی دہلیز پر میسر آسکیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں عوام کو معمولی سرکاری کاموں کے لیے طویل فاصلے طے کرکے صوبائی دارالحکومتوں اور بڑے شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ دور دراز علاقوں کے شہریوں کو سرکاری دفاتر، اعلیٰ انتظامی افسران اور متعلقہ محکموں تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نئے صوبوں یا مؤثر انتظامی یونٹس کے قیام سے انتظامی اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے، عوامی مسائل کے فوری حل اور سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب سمیت ملک کے دیگر پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں، صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر اور روزگار کے مواقع کی منصفانہ فراہمی ایک اہم عوامی مطالبہ ہے۔ جنوبی پنجاب کے عوام طویل عرصے سے الگ صوبے کے قیام اور اپنے علاقے کے لیے بااختیار انتظامی ڈھانچے کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں تاکہ مقامی سطح پر فیصلہ سازی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم سے علاقے کی ضروریات کے مطابق ترقیاتی منصوبے شروع کیے جا سکتے ہیں۔
مزید برآں انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کا مقصد محض انتظامی حدود میں تبدیلی نہیں بلکہ عوام کو بااختیار بنانا، مقامی وسائل کو مقامی ترقی کے لیے استعمال کرنا، نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا اور ہر علاقے کو اس کی آبادی اور ضروریات کے مطابق ترقی کے ثمرات پہنچاناہےانہوں نے کہا کہ انتظامی یونٹس کے قیام سے عوام کو ضلعی اور تحصیل سطح پر سرکاری اداروں کی فعالیت، پولیس، ریونیو، صحت، تعلیم اور دیگر محکموں کی خدمات تک رسائی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

متعلقہ خبریں