چشتیاں (ممتاز انجم) چشتیاں کے رورل ہیلتھ سینٹر 129 مراد میں مبینہ طبی غفلت کے باعث ایک معصوم بچے کی حالت غیر ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ متاثرہ بچے کے ورثاء نے الزام عائد کیا ہے کہ ڈیوٹی پر موجود عملے کی جانب سے غلط انجکشن لگائے جانے کے بعد بچے کی طبیعت بگڑ گئی، جس پر اسے فوری طور پر تشویشناک حالت میں شہر کے ایک نجی اسپتال منتقل کرنا پڑا۔
ورثاء کے مطابق بچے کو رورل ہیلتھ سینٹر میں علاج کے دوران انجکشن لگایا گیا، جس کے کچھ ہی دیر بعد اس کی حالت غیر ہوگئی اور وہ بے ہوش ہوگیا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ بعد ازاں معائنہ کرنے والے سرجن نے انہیں بتایا کہ بچے کو مبینہ طور پر نامناسب یا غلط انجکشن لگایا گیا ہے۔
متاثرہ خاندان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے واقعے کے بعد متعلقہ ہیلتھ مینیجر ڈاکٹر فائزہ خالد سے رابطہ کیا تو انہوں نے انجکشن لگانے کی تصدیق کی، تاہم بعد ازاں مزید رابطہ کرنے پر ان کا فون نمبر بلاک کر دیا گیا۔
ورثاء نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ مذکورہ مرکز صحت میں اس سے قبل بھی مریضوں کے ساتھ نامناسب رویے اور غفلت کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں، جبکہ شکایت کرنے والوں کو مبینہ طور پر ہراساں بھی کیا جاتا ہے۔ تاہم ان الزامات کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
متاثرہ خاندان نے وزیراعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب، کمشنر بہاولپور، ڈپٹی کمشنر بہاولنگر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ بہاولنگر سے واقعے کا فوری نوٹس لینے، غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانے اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی اپیل کی کہ رورل ہیلتھ سینٹر کے ادویات کے ذخیرے، طبی آلات اور علاج معالجے کے نظام کا مکمل آڈٹ کیا جائے تاکہ اگر کہیں غیر معیاری یا زائدالمیعاد ادویات موجود ہوں تو انہیں فوری طور پر تبدیل کیا جا سکے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے۔