روایتی طب اور ہومیوپیتھی کو قومی صحت کے نظام میں مؤثر کردار دینا وقت کی ضرورت ہے، ماہرین

چشتیاں: صدر نیشنل کونسل فار طب حکیم محمد احمد سلیمی اور صدر نیشنل کونسل فار ہومیوپیتھی پاکستان ڈاکٹر راؤ غلام مرتضیٰ نے کہا ہے کہ پاکستان میں ایلوپیتھی، طب یونانی اور ہومیوپیتھی کے ماہرین اگر باہمی تعاون اور اتحاد کے ساتھ کام کریں تو مختلف بیماریوں پر مؤثر انداز میں قابو پایا جا سکتا ہے اور ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ وہ الشمس طبیہ کالج چشتیاں کے زیر اہتمام مقامی شادی ہال میں منعقدہ ایک روزہ سیمینار "روایتی طب، جدید عالمی صحت کے مسائل کا پائیدار حل” سے خطاب کر رہے تھے۔

مقررین نے کہا کہ ملک میں کروڑوں افراد مختلف بیماریوں کا شکار ہیں، اس لیے ایلوپیتھی کے ساتھ ساتھ طب یونانی اور ہومیوپیتھی جیسے متبادل طریقہ علاج کی سرکاری سرپرستی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت مند زندگی کے لیے متوازن طرزِ زندگی اور درست غذائی عادات اپنانا ضروری ہے، جس پر عالمی ادارہ صحت بھی زور دیتا ہے۔ انہوں نے طب نبوی کے اصولوں پر عمل، تحقیق کے فروغ اور روایتی ادویات کی افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تاریخی طور پر وباؤں کے دوران روایتی طب نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ مقررین نے بتایا کہ چشتیاں میں 60 برس بعد الشمس طبیہ کالج کا قیام عمل میں آیا ہے، جہاں منظور شدہ نصاب کے تحت حجامہ، ہڈی جوڑ، تحقیق، آن لائن لیکچرز اور ریسرچ جرنل جیسے جدید تعلیمی اقدامات جاری ہیں۔ سیمینار سے حکیم ذوالفقار علی ملک، حکیم حافظ محمد فرید یونس اور حکیم شفقت عمران نذیر نے بھی خطاب کیا، جبکہ پرنسپل الشمس طبیہ کالج حکیم جمیل اصغر نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ تقریب کی نظامت میاں وحیدالرحمن ناوک ایڈووکیٹ نے کی۔

متعلقہ خبریں