چشتیاں: پنجاب فوڈ اتھارٹی نے چشتیاں اور گردونواح میں مضر صحت اور ناقص کھانے پینے کی اشیا فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ایک آئس فیکٹری بند، دوسری کو جرمانہ اور ایک کریانہ اسٹور کو ممنوعہ چائنہ نمک رکھنے پر جرمانہ کردیا، جبکہ مبینہ طور پر مضر صحت دودھ کی موجودگی کے معاملے میں دو افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔
فوڈ سیفٹی ٹیموں نے ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشنز کی سربراہی میں مختلف آئس فیکٹریوں، کریانہ اسٹورز اور ملک کلیکشن سنٹرز کا معائنہ کیا۔ حکام کے مطابق ایک آئس فیکٹری سے حاصل کیے گئے پانی کے نمونے کے لیبارٹری ٹیسٹ میں مضر صحت بیکٹیریا کی موجودگی سامنے آنے پر فیکٹری کو بند کردیا گیا، جبکہ دوسری آئس فیکٹری پر 30 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔
کارروائی کے دوران ایک کریانہ اسٹور سے 30 کلو ممنوعہ چائنہ نمک برآمد ہوا، جس پر پنجاب فوڈ اتھارٹی نے دکاندار کو 50 ہزار روپے جرمانہ کیا۔
فوڈ سیفٹی آفیسر علی حسن کے مطابق ٹیم نے نورسر روڈ منڈی مدرسہ میں قائم ایک ملک کلیکشن سنٹر پر بھی چھاپہ مارا، جہاں تقریباً 1400 لیٹر دودھ چلرز میں موجود تھا۔ حکام کے مطابق دودھ کی مالیت دو لاکھ روپے سے زائد تھی۔ ٹیم نے محمد افضل کی نگرانی میں دودھ کی جانچ کی اور نمونے حاصل کرکے لیبارٹری بھجوائے۔
حکام کے مطابق لیبارٹری سے دودھ کے مضر صحت ہونے کی اطلاع ملنے کے بعد جب فوڈ اتھارٹی کی ٹیم دوبارہ ملک کلیکشن سنٹر پہنچی تو محمد افضل اور صداقت ولد لیاقت مبینہ طور پر دودھ، چلرز اور دیگر سامان لے کر موقع سے فرار ہوگئے۔
پنجاب فوڈ اتھارٹی کی رپورٹ کے مطابق واقعے پر تھانہ مدرسہ پولیس نے محمد افضل اور صداقت کے خلاف پنجاب فوڈ اتھارٹی ایکٹ کی دفعات 22، 23 اور 32 کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے جبکہ دونوں کی تلاش جاری ہے۔
پنجاب فوڈ اتھارٹی حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے کھانے پینے کی اشیا سے متعلق کاروبار کی نگرانی جاری ہے۔ حکام نے کہا کہ خوراک کے معیار سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔