چشتیاں میں دو گروپوں میں تصادم، فائرنگ اور خنجر کے وار سے چار افراد زخمی، ہسپتال کی ایمرجنسی میں بھی جھگڑا

چشتیاں (نمائندہ خصوصی):معمولی رنجش کی بنا پر دو گروپوں کے نوجوان سرکاری ہسپتال کی ایمرجینسی میں پولیس کی موجودگی میں ایک دوسرے پرحملہ آور ہوگئے۔ہسپتال میں داخل مریضوں اور لواحقین میں سخت خوف وہراس پھیل گیا ۔پولیس ،ہسپتال انتظامیہ اور شہریوں نے غنڈہ گردی کو ختم کرایا جبکہ چشتیاں پولیس کی جانب سے سرکاری ہسپتال کی املاک کو نقصان پہنچانے اورغنڈہ گردی کرنے کے الزام میں دونوں گروپوں کے 13نوجوانوں کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے ان کی تلاش شروع کردی ہے۔

تھانہ سٹی اے ڈویژن چشتیاں کے مطابق زعیم بن رضوان ارشدنے پولیس کو بتایا کہ وہ اپنے تین ساتھیوں کے ہمراہ اپنے دوست فرحان گجر کے گھرگیا واپسی پررات 10 بجے 13گجیانی روڈ پرؐمحمد احمد نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ان کے موٹرسائیکل کو پیچھے سے ٹکر ماردی جس کے نتیجہ میں تینوں زمین پر گرپڑے تو ملزمان حنظلہ گل ،زعیم چوہدری،اکرام چاند،محمد احمد،عرزم نے 8 ساتھیوں کے ہمراہ وہاں پہنچ کرمارپیٹ کے بعد شدید مضروب کردیا۔بعد ازاں مضروب نوجوانوں کو تحصیل ہسپتال چشتیاں داخل کرا دیا۔

چشتیاں پولیس ہسپتال میں زعیم بن رضوان ارشد اور محمد احمد ولد ظفر اقبال کا نقشہ مضروبی بنانے میں مصروف تھی کہ فریق اول کے زعیم بن رضوان ارشد کی جانب سے اسد الرحمن ،حسنین پسران شفیق الرحمن بھٹی اپنے چارساتھیوں اور فریق دوم کی جانب سے عرزم ،حمزہ اپنے 5ساتھیوں کے ہمراہ جتھا کی شکل میں تحصیل ہسپتال کی ایمرجینسی میں حملہ آور ہوگئے اور ایک دوسرے کو تھپڑوں مکوں سے مارنا شروع کردیا۔حسنین نے ہسپتال کے آہنی سٹول سے مخالفین کو مارنا شروع کردیا کہ ہسپتال میں داخل مریضوں میں سخت خوف و ہراس پھیل گیا اوروہ بیڈ چھوڑ کر ہسپتال سے باہر چلے گئے۔

تھانہ سٹی بی ڈویژن چشتیاں کے سب انسپکٹرمحمد سعید کی جانب سے اسد الرحمن حسنین اور ان کے 4 ساتھیوں جبکہ فریق دوم عرزم ،حمزہ اور انکے 5 ساتھیوں کے خلاف زیر دفعہ 186/506/427/148/149کے تحت مقدمہ درج کرلیا ھے۔مزید برآں پولیس نے زعیم بن رضوان ارشد کی درخواست پر بھی ملزمان حنظلہ گل،زعیم چوہدری،اکرام عرف چاند،محمد احمد،عرزم اور ان کے 8 ساتھیوں کے خلاف زیردفعہ324/341/506/427/148/149 کے تحت مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے

متعلقہ خبریں