چشتیاں ڈپٹی ایجوکیشن (زنانہ) دفتر میں کرپشن اور بدانتظامی کے الزامات، ملازم نے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر دیا
چشتیاں (ممتاز انجم): چشتیاں کے ڈپٹی ایجوکیشن (زنانہ) دفتر میں مبینہ کرپشن، بدعنوانی، انتظامی بے ضابطگیوں اور ملازمین کے ساتھ ناروا سلوک کے الزامات سامنے آگئے ہیں۔ محکمہ کے ایک درجہ چہارم کے ملازم نے متعدد سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے شفاف تحقیقات اور تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق محکمہ تعلیم (زنانہ) کے درجہ چہارم کے ملازم سجاد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جذباتی انداز میں بتایا کہ دفتر میں مبینہ طور پر کرپشن،اقربا پروری اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ڈپٹی ایجوکیشن (زنانہ) اعجاز کوثر کے شوہر، جو سرکاری ملازم نہیں بلکہ ایک نجی شخص ہیں، روزانہ دفتر میں موجود رہتے ہیں، خواتین عملے کے درمیان بیٹھتے ہیں اور ملازمین کے امور میں مداخلت کرتے ہیں۔
سجاد کے مطابق مذکورہ شخص نہ صرف ملازمین کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کرتا ہے بلکہ انہیں مبینہ طور پر نازیبا الفاظ بھی کہتا ہے، جس کی آڈیو ریکارڈنگ بھی موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے اس معاملے کی شکایت ڈپٹی ایجوکیشن سے کی تو تحقیقات کرانے کے بجائے انہیں سزا کے طور پر دور دراز علاقے میں تبادلہ کر دیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ان کی چار بیٹیاں ہیں اور محدود تنخواہ کے باعث دور دراز تعیناتی پر روزانہ آمدورفت کے اخراجات برداشت کرنا ان کے لیے انتہائی مشکل ہو گیا ہے، جس سے ان کے خاندان کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔
سجاد نے مزید الزام عائد کیا کہ ڈپٹی ایجوکیشن (زنانہ) کے شوہر مبینہ طور پر اپنی مرضی سے مختلف ملازمین کی ڈیوٹیاں اور تعیناتیاں تبدیل کرواتے ہیں اور اس عمل میں مالی لین دین بھی کیا جاتا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ تمام معاملات مبینہ طور پر ڈپٹی ایجوکیشن کی سرپرستی میں انجام دیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ محکمہ کے بعض ملازمین بیرون ملک مقیم ہونے کے باوجود سرکاری تنخواہیں وصول کر رہے ہیں، جس سے قومی خزانے کو ہر ماہ لاکھوں روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے۔ سجاد کے مطابق اس مبینہ معاملے میں بھی متعلقہ افسران کی ملی بھگت شامل ہے۔ اس نے ایک خاتون ٹیچر فضا چودھری کا حوالہ بھی دیا کہ وہ کئی سالوں سے بیرون ملک مقیم ہے لیکن اسکی تنخواہ باقاعدگی سے جاری کی جا رہی ہے۔
درجہ چہارم کے ملازم سجاد نے وزیراعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب، صوبائی وزیر تعلیم، کمشنر بہاولپور اور دیگر متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ تمام الزامات کی غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں اورڈپٹی ایجوکیشن (زنانہ) دفتر کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے اوراگر بے ضابطگیاں ثابت ہوں تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔