چشتیاں:میونسپل کمیٹی کے شعبہ نقشہ کے عملہ کی جانب سے شہریوں کا سامان اٹھا کر لے جانے کی شکایات
کمرشل و رہائشی اراضی پر تعمیرات کے تعین کے صوابدیدی اختیارات کی بنیاد پر لوگوں کو تنگ کیا جاتا ہے ۔
چشتیاں: میونسپل کمیٹی چشتیاں کے شعبہ نقشہ کی جانب سے کمرشل اور رہائشی اراضی کے تعین کے طریقہ کار پر شہریوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی جگہ کو کمرشل یا رہائشی قرار دیا جاتا ہے تو اس کی بنیاد کیا ہے، اور کیا اس مقصد کے لیے شہر کا کوئی منظور شدہ ماسٹر پلان یا لینڈ یوز پلان موجود ہے؟
مقامی ذرائع کے مطابق متعلقہ پٹواری نقشہ سازی کے ابتدائی مرحلے میں صرف "فرد برائے نقشہ” جاری کرتا ہے، جبکہ تعمیراتی نقشے کی منظوری اور اراضی کی نوعیت (کمرشل یا رہائشی) کا تعین میونسپل کمیٹی کے شعبہ نقشہ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔
شہریوں کا مؤقف ہے کہ اگر اس تعین کے لیے کوئی منظور شدہ ماسٹر پلان، زوننگ پلان یا دیگر قانونی دستاویز موجود ہے تو اسے عوام کے سامنے لایا جانا چاہیے تاکہ تمام درخواست گزار یکساں اصولوں کے تحت کارروائی سے آگاہ ہو سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر فیصلے واضح اور تحریری قواعد کے بجائے صوابدیدی بنیادوں پر ہوں تو اس سے شفافیت پر سوالات جنم لیتے ہیں۔
شہریوں نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ بغیر منظور شدہ نقشے کے تعمیرات کی صورت میں میونسپل کمیٹی کی قانونی کارروائی کا دائرہ کار کیا ہے۔ ان کے مطابق بعض مواقع پر تعمیراتی سامان قبضے میں لینے کی شکایات سامنے آتی ہیں، جبکہ قانون عام طور پر نوٹس جاری کرنے، جرمانہ عائد کرنے یا متعلقہ قانونی کارروائی کا طریقہ کار فراہم کرتا ہے۔ اس حوالے سے شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ قوانین اور قواعد و ضوابط کو عوامی سطح پر واضح کیا جائے تاکہ کسی بھی کارروائی میں قانونی تقاضوں اور شہریوں کے حقوق کا مکمل خیال رکھا جا سکے۔
شہریوں نے حکومت پنجاب، محکمہ بلدیات، ڈپٹی کمشنر بہاولنگر اور ایڈمنسٹریٹر میونسپل کمیٹی چشتیاں سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر کے ماسٹر پلان، لینڈ یوز پالیسی اور نقشہ منظوری کے معیار کو عوامی دسترس میں لایا جائے تاکہ شفافیت، یکساں اطلاقِ قانون اور شہری اعتماد کو فروغ دیا جا سکے۔