میپکو کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ: چشتیاں میں مزدور بے روزگار،عملہ وافسران فون اٹھانے سے قاصر
چشتیاں: واپڈا کی جانب سے غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ علاقے میں جاری ہے، جس کے باعث عوام اور خاص طور پر مزدور طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہے۔ آرا مارکیٹ میں کل بارہ بجے سے بجلی بند ہونے کے باعث تقریباً ایک ہزار مزدور بے روزگار ہو کر فاقہ کشی پر مجبور ہو گئے ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق، غیر اعلانیہ بجلی بندش کے باعث نہ صرف معمول کی زندگی مفلوج ہو گئی ہے بلکہ مزدوروں کی روزی روٹی بھی متاثر ہوئی ہے۔ آرا مارکیٹ میں بجلی کی بندش کے باعث بازار کی بیشتر دکانیں اور ورکشاپس بند ہیں، جس سے روزانہ اجرت پر کام کرنے والے ہزاروں مزدور بے روزگار ہو گئے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ واپڈا کے اعلیٰ افسران اس معاملے میں کسی بھی قسم کی کوئی توجہ نہیں دے رہے اور فون اٹھانے سے بھی قاصر ہیں۔ عوام نے متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مسئلے کا فوری نوٹس لیں اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کو فوری طور پر ختم کریں۔
یاد رہے کہ ملک بھر میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ حال ہی میں وزیر توانائی عواس احمد خان لغاری نے سینیٹ کو بتایا تھا کہ پاکستان کا پورا بجلی کا نظام پرانا ہے اور اسے مکمل طور پر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے افسران کی نااہلی پر معافی بھی مانگی تھی اور کہا تھا کہ جب تک نظام مکمل طور پر تبدیل نہیں ہو جاتا، کوئی خاطر خواہ بہتری نہیں آئے گی ۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ بجلی کے بڑھتے ہوئے بلوں اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے ۔
امید کی جارہی ہے کہ میپکو افسران اس معاملے کا نوٹس لے کر عوام کو ریلیف فراہم کریں گے۔