چشتیاں:معطل پٹواری کی دفتر میں موجودگی کی ویڈیو وائرل، بااثر قبضہ گروپوں کی پشت پناہی کے الزامات

چشتیاں (نمائندہ خصوصی): چشتیاں میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں ایک شخص کو سرکاری دفتر میں اپنی نشست پر بیٹھے اور دفتری نوعیت کی سرگرمیاں انجام دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ مقامی ذرائع دعویٰ کر رہے ہیں کہ مذکورہ شخص معطل شدہ پٹواری محمد حمزہ ہے۔

دستیاب سرکاری ریکارڈ کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر چشتیاں کی جانب سے پٹواری حلقہ چک نمبر 174 مراد، محمد حمزہ کو مبینہ بدانتظامی اور ناقص کارکردگی کی بنیاد پر فوری طور پر معطل کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔ تاہم حالیہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ معطلی کے باوجود وہ سرکاری دفتر میں کس حیثیت سے موجود تھا اور آیا وہ دفتری امور میں مداخلت کر رہا تھا یا نہیں۔

مقامی شہریوں اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر معطلی کے احکامات پر مکمل عملدرآمد ہو چکا ہے تو دفتر میں مبینہ موجودگی مقامی انتظامیہ کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ متعلقہ حکام کو اس معاملے کی فوری وضاحت کرنی چاہیے تاکہ عوامی سطح پر پائی جانے والی تشویش کا خاتمہ ہو سکے۔

ذرائع کے مطابق چشتیاں اور گردونواح میں سرگرم بعض بااثر قبضہ مافیا گروپس مبینہ طور پر ایسے معطل یا متنازع سرکاری ملازمین کی پشت پناہی کر رہے ہیں اور انہیں سیاسی و سماجی اثر و رسوخ کے ذریعے تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

شہری حلقوں نے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ ریونیو کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ویڈیو کی مکمل تحقیقات کرائی جائیں اور یہ واضح کیا جائے کہ آیا معطل اہلکار سرکاری دفتر میں کس حیثیت میں موجود تھا۔ اگر معطلی کے احکامات کی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

عوامی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ سرکاری احکامات پر بلاامتیاز عملدرآمد ہی اداروں کی ساکھ اور عوام کے اعتماد کی بحالی کا واحد راستہ ہے، لہٰذا اس معاملے کی شفاف تحقیقات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

متعلقہ خبریں